Monday, April 10, 2023

علم الکلام

علم الکلام مسیحی ( عیسائی ) عقلی الہیات سے مختلف ہے۔ اس کی اپنی اصل اور تاریخی پس منظر ہے ۔ اس لیے الفاظ کی اصل عربی ہے۔ بعد کے ادوار میں دوسری روایات کے ساتھ ملتا گیا۔ اکثر مفکرین مغربی فکر کے زیر اثر مسیحی عقلی الہیات سمجھتے ہیں۔ اس لئے وہ اپنے استدلال میں مسیحی علماء الہیات کی مثالیں پیش کرتے ہیں۔۔ ان کا موقف ے کہ پہلے "مانے اور پھر جانے" کی وضاحت کو علم الکلام کہتے ہیں۔
اس تمہید کا مقصد یہ تھا کہ یہ واضع ہو جائے کے علم الکلام مسلم الہیات ے ۔
دوسرا یہ کے کسی بھی نظام یا مذہب میں مانے کا مطلب اسلام میں مانے کے مطلب سے مختلف ہے۔ خا ص کر عقیدے کے معاملے میں۔ جسے کسی فوجی ادارے یا کالج کے اصول یا کسی بھی مذہب کو مانے کا عہد اور حلف برداری وغیرہ ۔ لیکن اسلام میں مانے کا مطلب ایک قسم کا روحانی تجربہ ے ۔چونکہ تصدیق بالقلب صرف عقلی اقرار نہیں ہے بلکہ تجربہ ے اس لئے خالی تسلیم کرنا نہیں ہے یہ شہادت ے ۔ جسے عام عقلی یا تجرباتی سائنس کی سطح پر رہ کر نہیں سمجھا جا سکتا ے۔ یہ اعلی سطح کا وجدانی تجربہ ہوتا ے. جس کا ظہور عقلی توضیح یعنی فکر و کلام اور صوفی کے روحانی تجربات اور احوال کی صورت میں ہوتا ے ۔ جو ترقی کر کے عقلی اور روحانی علوم کی بنیاد بنتا ہے۔ اس طرح اجتہاد کے لیے راہ ہموار کرتا ے ۔ غیر رواتی اہل علم جمود سے نکلنے کا یہی راستہ تجویز کرتے ہیں۔ جس میں علامہ اقبال کا نام نمایاں ہے۔
تری نگاہ ناز سے دونوں مراد پا گے
عقل غیاب و جستجو عشق حضور و اضطراب

No comments:

Post a Comment

Quantum Entanglement

  Quantum Entanglement  was an argument against the completeness of quantum mechanics .  https://galileo-unbound.blog/2022/11/26/a-short-his...